Mashwani.com (2005-2016). Promoting Mashwanis around the world (11 years)

محمد رفیق - فاونڈر مشوانی ڈاٹ کام

Oct 2, 2016

کیا پاکستانی ٹیم بھتر ھوگئ ھے؟

ویسٹ انڈیس کی نا تجربہ کار ٹیم کو ھرا کر میڈیا کے اوپر بہت پروپیگنڈہ کیا جارھا ھے اور خوشی کا اضہار کیا جا رھا ھے کیا حقیقت یہی ھے ؟ بلکل نھیں۔ اس کی دلیل یہ ھے۔ ۔کیا یہ ٹیم جنوبی افریقہ کو ھرا سکتی ھے؟ کیا یہ ٹیم آسٹریلیا اور نیوزی کو ون ڈے میں ھرا سکتی ھے؟ بلکل نھیں۔ پاکستان کی ٹیم میں کونسا کھلاڑی ڈیولیئر اور سمتھ کے مقابلے کا؟ کوئ نھیں۔ پاکستان کے پاس کتنے باولر ھیں جو آسٹریلیا کے فاسٹ باولرز کا مقابلہ کرسکتے ھیں؟ کوئ نھیں۔ جن کی نظر محمد عامر پر ھے اس نے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں کونسا کارنامہ سر انجام دیا؟ اچھا باولر ھے لیکن اس کی کارکردگی نظر نھیں آرھی ھے۔ جس ملک کے کرکٹ کا سربراھ نجم سیٹھی جیسا ھو اس ملک کی کرکٹ کبھی بھتر نھیں ھوسکتی۔ اس نجم سیٹھی سے کوئ یہ پوچھے کہ اظہر علی کو کس بنیاد پر ٹیم کا کپتان بنایا گیا ھے؟ وہ تو ٹیم میں شامل ھونے کے قاپل بھی نھہں۔ پاکستان کی موجودہ ٹیم تقریبا" دس سے بیس فیصد ٹیلنٹ کی نمائندگی کرتی ھے۔ باقی اسی فیصد میں کئی جاوید میانداد، وسیم اکرم اور عمران خان جیسے کھلاڑی سامنے ھی نہیں آتے۔ آسٹریلیا ، جنوبی افریقہ، نیوزی لیڈ نے ون ڈے کرکٹ کو سائینس میں تپدیل کردیا ھے ان کا ایک ایک کرکٹ شاٹ ھی منفرد ھے۔ یہی وجہ ھے کہ پاکیستانی کوچ نے ان کے بارے میں کہا کہ یہ اسی کی دھائ کی کرکٹ کھیل رھے ھیں۔ جب تک پاکستان کی ٹیم سفارش کی بنیاد پر بنائ جاۓ گی اس وقت تک پاکستان کا ون ڈے میں نمبر ون بننے کا خواب مشکل دکھائ دیتا ھے۔ ہم سب کو امید ھے کہ وہ دن ضرور آۓ گا جب پاکستان کی ٹیم ون ڈے میں انیس سو بہانوے کی طرع کی ٹیم بنے گی انشااللہ ۔ اگر کسی کو میرا تبصرہ برا لگے اس کے لیے میں معزرت خواہ ھوں 

 

Sept 25, 2016

ووٹ کی اھمیت

یہ تبصرہ میرا اپنا ھے، میں نے اسےکہیں سے کاپی نھیں کیا

روز مرہ زند گی میں ھم اپنے لیے ھمیشہ اچھے فیصلے کرتے ھیں مثال کے طور پر اچھی نوکری کے لیے کوشش کرتے ھیں تاکہ تین وقت کا کھانا میسر ھو، سر  پر چھت ھو، چھوٹی موٹی سواری کا بندوبست ھو پھننے کے لیے کپڑے ھوں وغیرہ وغیرہ ۔ اب جو اس مقصد کے لیے کوشش کرتے ھیں تو گھر کے لیول تک سب اچھا ھو جاتا ھے۔ اب باری  آتی ھے گھر کے باھر کی۔ گھر سے باھر جو ضروریات ھیں ان میں پینے کے لیے صاف پانی، پڑھائ کے لیے اچھے سکول، صحت کے لیے اچھے ھسپتال، بجلی، سڑکیں، صاف ماحول، کھیل کے لیے گراونڈز، تفریح کے لیے پارک، زندگی کی اچھے معیار کے لیے قوانین اور بھت سی دوسری ضروریات زندگی۔  اس مقصد کے لیے ھم جمھوری نظام  کا سہارہ لیتے ھیں۔ گھر کے باھر اور اندر کے معاشی معاملات  کا ایک ساتھ چلنا بھت ضروری ھوتا ھے لیکن دونوں کی ابتدا ووٹ سے ھوتی ھے۔ نوکری اس وقت ملے گی جب نوکریاں دستیاب ھونگی اور وہ اس وقت دستیاب ھونگی جب ھم ووٹ کا صحیح استعمال کریں گے اور ایسے لوگوں کو لیکر آئیں گے جو ایسا نظام لے کر آئیں جہاں پر قومی نمائندوں سے نوکریاں مانگنے کی ضرورت نہ پڑے بلکہ سسٹم میں میرٹ پر نوکریاں دستیاب ھوں۔  ایسا ماحول بنے جس میں آزادانہ کاروباری مواقع دستیاب ھوں تاکہ جس نے نوکری کرنی ھے وہ نوکری کرے اور جس نے کاروبار کرنا ھے وہ کاروبار کرے۔ ایسا ھونے کی صورت میں ووٹ کا ایک بھت چھوٹا سے مقصد پورا ھوجاتا ھے۔ روزگار مل گیا گھر کے اھم مسلے حل ھوگئے اب رھ جاتا ھے مملکت کے باقی فرائض جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا۔ بجلی ، پانی، صحت، ماحولیات وغیرہ وغیرہ ۔ جمھوری نظام حکومت بڑی خوبصورتی سے اس کو کور کرتا ھے۔ اس نظام میں ھمیں اچھے ھسپتال چاھیے ھوتے ھیں جس  کے لیے ھم  بہتریں  نمائندہ منتخب کرتے ہیں تاکہ بیماری کی صورت میں اچھے سے اچھا علاج ممکن ھوسکے۔ اگر اچھا ھسپتال گھر کے قریب ھوگا تو ھمیں  صحت کے لیے سفر کی ضورت نھیں پڑے گی اور نہ لوگ دوائ نہ ھونے کی وجہ سے زندگی کی بازی ھاریں گے۔ اس طریقے سے ووٹ کا ایک اور چھوٹا سا مقصد حاصل ھوجاتا ھے ۔ بجلی ھمارا ایک اور آئینی حق ھے جس کے لیے ھم اپنا ووٹ استعمال کرتے ھیں۔  جس ملک میں، میں رھتا ھوں،  مجھے یاد نھیں کہ آخری دفعہ بجلی کب گئ تھی اور اس کے لیے ضروری نھیں کہ میں اپنے منتخب نمائید ے کی تعریفیں یا فرمانبردایاں کروں یہ میرے ووٹ کا ایک چھوٹا سا حق ھے۔ بچے کے سکول کے لیے ھم ووٹ دیتے ھیں تاکہ ھر شخص کا بچہ اچھے سکول جاسکے اور زندگی میں ترقی کرے۔  اگر غلط لوگوں کو ووٹ دیں گے تو بچہ اچھے تعلیم سے محروم ھوجاۓگا اور ووٹ کا غلط استعمال ھوجاۓگا۔ پھر ھم ووٹ دیتے ھیں روڈ بنانے کے لیے۔ ھم ووٹ دیتے ھیں پینے کے صاف پانی کے لیے تاکہ ھمارے بچے بیمار نہ پڑ جائیں۔ ھم ووٹ دیتے ھیں آلودگی سے پاک فضا کے لیے ۔ ھم ووٹ دیتے ھیں  میڈیکل ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے۔ ھمارے ووٹ کا ایک حصہ مھنگائ روکنے کے لیے جاتا ھے۔ ھم ووٹ دیتے ھیں ایک ایسے نظام کے لیے جس میں کم آمدنی والے لوگوں کے لیے ھر سطع پر سرکاری ٹرانسپورٹ دستیاب ھو۔ ھم ووٹ دیتے ھیں اچھے پولیس نظام کے لیے۔ ھم ووٹ دیتے ھیں اچھے عدالتی نظام کے لیے۔ ھم ووٹ کا صحیح استعمال اس لیے بھی کرتے ھیں تاکہ ھم ایک قوم بن سکیں ۔ ووٹ کاغذ کا ٹکڑا نھیں ھے یہ وہ طاقتور نوٹ ھے جس کو اگر ھم صحیح طریقے سے استعمال کریں تو اس کی مدد سے وہ سارے سہولیات  حا صل کیے جا سکتے ھیں جن کا ذکر اوپر کیا گیا ھے ۔ کسی بھی کرنسی کا اتنا آسان اور موثر استعمال ممکن ھی نھی ھے اگر ھم اس نوٹ کا جان بوجھ کر صحیح استعمال نھیں کریں گے تو اس کا مطلب یہ بھی نکلے گا کہ ہم نے سچ کا ساتھ نھیں دیا اور امانت میں بھی خیانت کی جس سے ھم نہ صادق رھیں گے اور نہ امین۔ پاکستان کی بد قسمتی ھے کہ آج تک ھم نے ووٹ کا صحیح استعمال نہیں کیا جس کی وجہ سے آج ھم دنیا سے بھت پیچھے ھیں۔ اللہ سے دعا ھے کہ ھم سب سوچ سمجھ کر ووٹ کا استعمال کریں۔  کسی کے لیے ووٹ نہ دیں بلکہ صرف اور صرف اپنے لیے اس کا استعمال کریں۔ آمین

 

Sept 22, 2016

پاکیستان زندہ باد

ھم ھمیشہ پاکستان کو زندہ دیکھنا چاھتے ھیں لیکن حقائق اس کے بلکل خلاف ھیں۔ کھاں سے شروع کروں؟ آج ایک  گورا ملا جو  پاکستان سے ابھی ابھی مختصر دورے سے واپس آیا اور کھنے لگا تمھارہ ملک تباھی کے راستے پر گامزن ھے۔ میں نے کھا وہ کیسے؟ کھنے لگا پاکستان سول وار کی طرف جارھا ھے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ اتنا قرضہ پاکستان کو ملتا ھے اور اس کا دس فیصد بھی عوام پر خرچ نھیں  ھوتا اور یہ بات قرضہ دینے والے ذرائع کے علم میں ھوتا ھے-  پاکستان کے پاس اتنا سرمایہ بھی نھیں کہ انڈیا کے ساتھ تیس دن لڑای  لڑسکے اور یہاں یہ بھی کہتا چلوں کہ جنگ ھوگی اور وہ دور نھیں ھے  جزباتی لوگ میرے ساتھ  اتفاق نھیں کریں گے یہ رویہ بھی ھماری کمزوری کی وجہ ھے۔ ھم جذبات میں بھہ جاتے ھیں۔  ملک کے اوپر اربوں قرضہ ھے اتنا ایندھن بھی نھیں کہ تیس دن تک یہ ملک بغیر کسی سپلائ کے چل سکے۔ مختصر یہ کہ جنگ کی صورت میں تیس سے ساٹھ دنوں میں ھر چیز کی سپلائ ختم ھوجائے گی۔ پاکستان دنیا کے کئ ممالک کی ھٹ لسٹ پر ھے۔ ایک بیناالاقوامی سازش بھر پور طریقے سے جاری ھےیہ لوگ  دو طریقوں سے پاکستان کو نشانہ بنا رھے ھیں۔ ایک مقروض بناکر اور ایک باھر سے لوگوں کو سپانسر کرکے اندر سے اسے کھوکلہ کر کے- ھمارے اپنے لوگ اپنے اپنے طور پر ایسے کارنامے سرانجام دے رھیں کہ اس سے بینلااقوامی سازشیں  کامیاب ھونے میں مدد ملے گی
سیاسی کھلاڑیوں میں سرفہرست یہ ھیں- نوازشریف گروپ، پییپلز پارٹی اور ایم کیوایم گروپ۔ نواز شریف اور زرداری  گروپ نے اپنے  ذمہ قرضے لینا  اور اس کو ضایہ کرنا، لیا ھے۔ ایم قیو ایم تو پہلے ھی مردہ باد کے نارے لگا رھے ھیں۔ ان پارٹیوں نے جتنا پیسا اس ملک کا اپنے بینکوں میں ڈالا ھے اس سے صاف ظاھر ھوتا ھے کہ یہ لوگ آنے والے وقتوں میں عوام کے ووٹ کو آرام سے خرید لیا کریں گے۔ پھر اگر بین الاقوامی سازشیں کامیا ب ھوئیں تو یہ شیخ مجیب الرحمان کی طرع کہیں گے ِادھر ھم اُدھر تم۔ یہ گروپ ستر سال سے اس ملک پر قابض ھے لیکن پاکستان ِاس وقت جتنا کمزور ھے پھلے کبھی نھیں تھا۔ ھمیں جزباتیت اور خود غرضی سے نکل کر اس ملک کی ترقی کا سوچنا پڑے گا۔ پاکستان کا میڈیا بھی اس کی تباھی میں برابر کا شریک ھے ھمیں اپنے دماغ سے سوچنا بڑے گا نہ کہ کوئ اور ھمارہ ذھن بناۓ - ھمیں اس ملک میں تبدیلی لانی پڑےگی وہ عمران خان کی صورت میں ھو یا کسی اور صورت میں۔ پاکستان کافی عرصے سے پستی کی طرف مسلسل جارھا ھے اس کو انگریزی میں کھتے ھیں، گوئینگ ڈاون ہل۔ ھم سب کو یہ وارننگ ھے ۔   میری باتیں کچھ لوگوں کو اچھی یا درسٖت نہیں لگ رھی ھونگی لیکن بد قسمتی سے حقیقیت یہی ھے۔ اللہ سے دعا ھے کہ اللہ پاکیستان کی حفاظت کرے اور پاکستان آرمی کو ھمیشہ طاقتور رکھے اور اس کی کمان ھمیشہ قابل لوگوں کے پاس رھے۔ آمین۔
 یہ تحریر میری اپنی ھے میں نے کھیں سے کچھ بھی کاپی نھیں کیا ھے۔

 

Sept. 20, 2016

آج ٹی پر ایک نعرہ دیکھا اور پاکستان ایک جنگل سے کم نھیں لگا۔ بندہ ٹی وی پر آیا اور اس کے ھاتھ میں ایک ایسا ڈندہ تھا جس سے واقعی ٹانگیں توڑیں جاسکتی ھیں وہ کھنے لگا جس نے بھی نواز شریف کے گھر کی طرف جانے کی کوشش کی میں اس کی ٹانگیں توژ دونگوں۔ جی نھیں وہ کسی جنگل کی سٹوری بیان نھیں کررھا تھا نہ ھی وہ پتھروں کے دور میں کھڑا تھا اور نا ھی وہ کسی فلم کا ڈ ائلاگ بول رھا تھا  بلکہ وہ ایکیسویں صدی کے پاکستان میں کھڑا تھا جس میں ایک سپریم کورٹ ھے فوج کا  ایک طاقتور سپاہ سالار ھے جس میں نواز شریف کی حکمرانی ھے جس میں عاصمہ جھانگیر جیسے انسانی حقوق کے نام نھاد چمپیئز ھیں ۔ جھاں پر ایسی عدالتیں ھیں جو شراب کی بوتل پر سویوموٹو لے لیتیں ھیں۔ اللہ سے دعا ھے یا اللہ اس ملک میں رھنے والے معصوم لوگوں کی حفاظت فرما آمین

 

March 8, 2013

خواتين کا عالمی دن

اگر مجھ سے کوی پوچھے کہ کمزور کی کيا تعريف ھے تو مير جواب ھوگا ۔ عورت۔ سب ذھنيت کا کصور ھے ۔ قرآن نے عورت کو طاقت بخشی اور يورپ اور امريکہ نے اسے عملی جامع پھنايا۔ ميں مزاق ميں کھتا ھوتا ھوں کہ يورپ اور امريکہ ميں اگر کسی کو ڈرانہ ھو تو عورت سے ڈراتے ھيں اور اگر پاکستان ميں روب جمانا ھے تو زيادہ سے زيادہ نرينہ اولاد ھونی چاھيے۔ پاکستان ميں عورت کی حالت افسوس ناک ھےسوائے کہ اگر وہ ماں ھے۔ عورت کا سب سے بڑا گناھ ھے جب وہ بيوی ھو، بيٹی ھو يا بھن۔ تينوں کے ساتھ کسی نہ کسی طريقے سے ظالمانہ سلوک کيا جاتاھے۔ اگر وہ بھن ھے تو وہ اپنا حق نھيں مانگ سکتی۔ اگر وہ بيٹی ھے تو اس کی تقدير دوسرں کے ھاتھوں ميں ھوتی ھے اور خدا نہ خواستہ اگر وہ بيوی ھے تو اس کا مقام وہ ھے جو ھندو معاشرے ميں سب سے نچلے درجے کی ذات کے لوگوں کا ھوتاھے۔ اس کو مارا بھی جاتا ھے، اس پر الزام لگائے جاتے ھيں اس کے خدائ حقوق ذبط کيے جاتے ھيں اس کو طلاقيں دلوای جاتيں ھيں۔ يہ ايک رواج ھے بلکہ رواج کيا عورت کو ذليل کروانہ ايک عام بات ھے اس کی سب سے بڑی وجہ مزھب سے دوری ھے اس ميں کوئ شک نھيں کہ ھر انسان کے پيدائيشی حقوق ھيں ليکن معاشرہ ان حقوق کو اپنے مقاصد کے ليے استعمال کرتا ھے ۔ اس برائ ميں نام نھاد مزھبی ٹھيکيداروں کا بھت بڑا کردار ھے۔ مثال کے طورپر عورتوں کے طلاق کو ليجئے۔ عورت اپنے حق کے ليے تھوڑی سی بھی آواز اٹھاتی ھے اس کو زبردستی طلاق دلوائ جاتی ھے اس ميں کوئ شق نھيں ھے کہ والدين کے بھت حقوق ھے ليکن اس کا ھر گز يہ مطلب نھيں ھے کہ دوسروں پر ظلم ڈھايا جائے۔اور ان کی زندگيوں کو تباھ کرديا جائے۔ دھاتوں ميں خاص کر يہ حالات ھيں کہ والديں باقاعدہ اپنے بيٹے کو حکم ديتے ھيں کہ بھو کو طلاق دو اور بيٹاصرف ايک ھی بات جانتا ھے کہ والدين کے سامنے اف نھيں کرنی - يہ اس کا قصور نھيں بلکہ يہ معاشرے کی ان تعليمات کا نتيجہ ھوتا ھے جو عورت کے ليے ايٹم بمب کی حيثيت رکھتيں ھيں يھاں پر ايک بات جو قابل غور ھے وہ يہ ھہ کہ والدين کے سامنے اف نہ کرنا۔ بلکل نھيں کرنی چاھيے ليکن کيا والدين کا يہ کردار ھوتا ھے کہ وہ اس اف کو ايک غلط کام کے ليے استعمال کريں؟ کيا يہ نھيں ھوسکتا کہ وہ اس اف کو اس وقت استعمال کريں جب بيٹا بيوی کی حق تلفی کرے؟ کيا يہ نھيں ھوسکتا کہ وہ اس اف کو اس وقت استعمال کريں جب بيٹا بيوی کی جائيز ضروريات پوری نہ کرے ؟ کيا يہ اف اس وقت استعمال نھيں ھوسکتا جب بيٹا بيوی کو وہ سارے حقوق نھيں ديتا جو اس کو اسلام نے ديے ھيں؟ جب مرد خود عورت سے پيدا ھو اور اس کے مرد پيدا ھونا اس کے دسترس ميں نہ ھو تو پھر کون افضل اور کون ابتر؟

Feb 24, 2013

زبان اور کلچر

ھر قوم کا ايک کلچر ھوتا ھے۔ اور اصل قوميں اپنی کلچر کی حفاضت کرتی ھيں۔اس چيز کا ميں نے کئ جگھوں پر خود مشاھدہ کيا ھے۔ ترکی ميں ميں نے يھی چيز ديکھی۔ترکی ائرپورٹ پر نوے فيصد سے زيادہ انگريزی زبان بولنے اور سمجنے والے مسافر مجھے نظر آئے مگر اکثر مقامی لوگ ترکش زبان ميں بات کرنا پسند کرتے تھے۔ چايئنہ کی مثال سب کے سامنے ھے اتنی ترقی کرنے کے بعد بھی چائنيز زبان کا غلبہ صاف نظر آتا ھے۔ اگلی مثال روس کی دينا چاھتا ھوں۔ ميں کام کے سلسلے ميں رشينز کے ساتھ اکثر رابطے ميں ھوتا ھوںسب جانتے ھيں کہ رشيہ نے کتنی ترکی کی ليکن مجھے جگہ جگہ پر يہ بات محسوس ھوئ کہ انگلش ان کا مسلہ ھے۔کتنا مشکل ھے انگلش سيکھنا۔ پاکسان ميں سرکاری سکول کا بچہ بھی انگلش بولسکتا ھے۔کينيڈا ميں کيوبيک صوبے ميں فرينچ بولی جاتی ھے۔ فرينچ کا اتنا غلبہ ھے کہ پورے ملک ميں فرينچ ايک قومی زبان ھے۔آپ دنيا ميں کھيں بھی چلے جائيں آپ کو سکھ سر پر پگھڑی باندھے ھوئے نظر آئيں گے۔بلکہ کئ جگھوں پر سکھوں کو جان سے بھی ھاتھ دھونا پڑا مگر مجال ھے کہ وہ اپنے کلچر کو چھوڑ ديں۔ ھمارا بھی ايک کلچر ھے ھماری بھی ايک زبان ھے ھم اپنے کلچر کی کتنی حفاظت کررھے ھيں اس کا اندازہ سب کو ھے۔ قومی ليول پر لوگوں کو انگريزی کا بخار ھے اور نچلے ليول پر لوگوں کا اور بھی برا حال ھے پشتو بولنے والے پشتو تک نھيں بولتے۔ ميں نے يہ تماشہ دو جگھوں پر ديکھا۔ پھلی دفعہ اس وقت ديھکا جب ايک عوامی جلسہ ھورھا تھا۔يہ جلسہ سریکوٹ ميں پشتونوں کےعلاقے ميں،پشتو بولنے والوں نے، پشو صوبے کے پشتو بولنے والی پارٹی کے پشتو بولنے والے وزير اعلی کے ليے منعقد کيا تھا۔ اس جلسے ميں ساری تقريريں اردو ميں کی گئ اس ميں کوئ شک نھيں کہ اگر يھی جلسہ قومی ليول پر ھوتا تو اس ميں انگريز کی جھلگ بھی نظر آجاتی۔ دوسری دفعہ ميں نے يہ مظاھر اس وقت ديھکا جب کراچی ميں مشوانں بھائيوں نےايک افطار پارٹی کا بندوبست کيا تھا ۔ بھت اچھی بات ھے بھت اچھا لگا سب مشوانيوں کو اکٹھا ديکھ کر۔ليکن اس محفل کا الميہ يہ تھا کہ ميزبان سے ليکر مھمان تک سب نے اردو ميں بات کی افسوسناک بات يہ تھی کہ مھمان صاحب جو کہ مبينہ طور پر قبيلہ کے کسی انجمن کے صدر محترم بھی ھيں، نے اردو ميں بات کی ۔ اردو ميں بات کرنا کوئ بری بات نھيں ھے ليکن جب آپ بار بار اعلان کر کے کھہ رھے ھوں کہ آج مشوانی قوم اکٹھی ھوئ ھے توبتائيں لگوں کو کہ آپ کا کيا کلچر ھے۔ ميرے خيال ميں کلچر چھپانہ شرم کی بات ھے نہ کہ بچانا

Feb. 17, 2013

رزق حلال اور ھم

ھر انسان پيٹ پالنے کے ليے کام کرتا ھے۔ھمارا مذھب ھميں رذق حلال کی تعليم ديتاھے۔رذق حلال کيا چيز ھے؟ ميرے محدود علم کے مطابق رزق حلال کا مطلب ھے کہ انسان مزھبی تعليمات کی روشنی ميں کام کرتا ھے اور اس کا اجر ليتا ھے۔ اب کام کرنے کے بھت طريقے ھيں۔ جھوٹ بولکر کام کيا جاسکتا ھے، چوری کرکے کام کيا جاسکتا ھے،رشوت ديکر اور ليکر بھی لوگ سمجھتے ھيں کہ وہ کام يا کاروبار کر رھے ھيں۔ ھمارا مذھب ھميں بتاتا ھے کہ جھوٹ کے نتيجے ميں کمائ گئ کمای حرام ھے،ھمارے ملک پر جو عزاب اس وقت آيا ھوا ھے اس کی وجہ ھی يھی ھے کہ اکثريت جھوٹ بول کر پيٹ پال رھے ھيں۔يہ بات ايک عام آدمی سے ليکر سياست دانوں تک لاگو ھوتی ھے۔ چوری چاھے ڈاکہ ڈال کر کی جائے يا خربرد کے نتيجے ميں يا دوسرں کا حق کھا کر، ايک غير مذھبی اور غلط اقدام ھے۔ھمارا محاشرہ چوروں سے بھرا ھوا ھے۔ ايک دفعہ پھر ايک عام آدمی سے ليکر سياست دانوں تک۔رشوت دينے والا اور رشوت لينے والا دونوں دوسخی ھيں۔

ميں نے حال ھں ميں کچھ سامان روس سے منگوايا۔ جب سامان ميرے موجودہ ملک پھنچا تو کورئير کمپنی نے مجھے فون کيا کہ سامان کو کلئر کروانہ ھے آپ کا اگر کوئ کلئيرنگ ايجنٹ ھے تو بتائيں ورنہ اگر آپ چاھيں تو ھميں اجازت ديں تو ھم آپکا سامان کلئر کرواليتے ھيں۔ چونکہ ميرے پاس وقت نھيں تھا تو ميں نے انھيں لکھ کر دے ديا کہ آپ ميرے ايجنٹ بن جائيں۔ انھوں نے مجھے ڈيڑ پرسنٹ يعنی ايک سو روپے پر ايک روپے اور پچاس پيسے، چارج کيے اور مجھے سامان گھر بيٹھے مل گيا۔ اب اگر يہ پاکستان ھوتا تو ميں سب سے پھلے کلئيرنگ اينڈ فاروڈنک ايجنٹ ڈھونڈتا اور اس نے مجھے سٹورياں شروع کرلينيں تھی اور آخر ميں وہ ايک کروڑ کی سامان پر بيس لاکھ روپے رشوت مانگتا، اس بات ميں کوئ شق ھی نھيں ھے کہ پاکستان ميں ايسا ھوتا ھے۔

زرا غور کرنے کی ضرورت ھے کھچ لوگ يہ بحث کرتے ھيں کہ اگر اور لوگ جھوٹ، چوری اور رشوت سے کام ليتے ھيں تو ھم کيوں نھيں۔ ان لوگوں سے ميرا يہ سوال ھے کہ اس ملک ميں تو خود کشياں بھی روزانہ ھوتيں ھيں تو يہ لوگ ان کی تقليد کيوں نھی کرتے؟ اس سارے صورت حال کو سامنے رکھ کر يھی کھا جاسکتا ھے کہ رزق حلال اور ھم-دور دور تک کوئ جوڑ نھيں۔

اپنی راۓ بھيجنے کے ليے اس ايميل پر رابطہ کريں info@mashwani.com

 

 

(March 8, 2012) مارچ آٹھ -خواتين کا آلمی دن

مرد نے ھميشہ عورت کو کمزور مخلوک سمجھاھے۔مجھے يہ کھتے ھوۓ کوئ جھجک نھيں کہ ايسے مرد سے مجھے نفرت ھے کيونکہ ايسا شخص ھے ھی قابل نفرت ھے۔ کيوں وہ قابل نفرت ھے اسکی دو وجوھات ھيں ميری نظر ميں۔ ايک وہ اللہ کے بناۓ ھوۓ انسانوں ميں فرق کرتا ھے۔ دوسری بات يہ کہ، وہ يہ بھول جاتا ھے کہ يھی عورت اس کی ماں بھے ھےاور بھن بھی۔ ھم لاکھ يہ سوچ ليں کہ مرد اور عورت برابر ھے، ھميں کھيں نہ کھيں عورت مرد کے ھاتھوں کمزور نظر آۓگی، کھيں بيٹے کی خاھش تو کھيں بيٹے کو بيٹی کے مقابلے ميں زيادہ اھميت کا فرق ۔ مرد کے بناے ھوے ايسی بھت ساری باتيں ھيں جو عورت کو کمزور ظاھر کرتی ھيں ليکن عورت کمزور نھی ھے اور اگر کھی ھے تو ھميں اس کو طاقتور بنانا چاھيے۔ ايک بيٹی کی روپ ميں اسکو اچھی تعليم دے کر، ايک ماں کی صورت ميں اس کو عزت اور بلند درجہ دے کر، ايک بيوی کی صورت ميں اس کو برابری کا درجہ دے کر۔

 

Oct. 28, 2011

ajmeer shaheed

اجمير آپ شھيد پاکستان ھيں

اجمير کی خبر پڑھ کر کئيوں کے قلم نھيں رک سکے ھونگے۔آپ ميں سے جنھوں نے ان کے بارے ميں نھيں پڑھا ان کے ليے اس تحرير کے آخر ميں ايک لنک حاضرھے خبر پڑھنے کے بعد کوئ پاکستانی ايسا نھيں ھوگاجو ان پر فخرنہ کرے۔ خبر ميں يہ بتاياگيا کہ جب ان کا کسی علاقہ سے تبادلہ ھوتا تھا تو لوگ سڑکوں پر احتجاج کےليے نکل پڑتے تھے۔ميں نے فورْا ان کا مقابلہ ترقی يافتہ ممالک کی پوليس سے کيا جھاں پر پوليس لوگوں کی اسی طريقے سے حفاظت کرتی ھے فرق اتنا ھے کہ اجمير بغير کسی بڑی تنخواہ کے، دنيا کے خطرناک ترين حالات ميں اپنے ھموتنوں کی حفاظت کرتے تھے۔اجمير جيسے لوگ جب تک پيدا ھوتے رھيں گے يہ ملک اس وقت تک سلامت رھے گا۔ اصل سوگ تو آپ کے ليے منانا چاھيے۔آپ کے غم ميں پورا پاکستان ايک دن کے ليے بند ھو تو کوئ افسوس نھيں کيونکہ آپ شھيدِ پاکستان ھيں

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/10/111028_suicide_attack_sen.shtml

 

 

9/11

آپ کی تصوير ھمارے دل و د ماغ ميں ھے

گھر ميں مجھ سے کسی نے پوچھا کہ آج کيا دن ھے تو ميں نے کھا ٩/١١۔ دنيا کے عظيم ليڈر کا يوم وفات ۔ آجکا دن اس لحاذ سے بھت اھم ھے کہ يہ دن اس انسان کی يوم وفات ھے جنھوں نے ھميں اتنا بڑا ملک ديا۔ ليکن بے حسی اور احسان فراموشی کی انتھا ديکھيے کہ جنھوں نے يہ ملک بنايا ان کی تصوير ھی صدراوروزيرآعظم کے ميزسے کئ دفعہ غائيب ھوجاتی ھے اور کبھی اُس تصوير کے برابر ميں نظر آتی ھے جس کو ديکھ کر بندہ يہ سوچنے پر مجبور ھوجاتا ھے کہ سورج کا مقابلہ چراغ سے کھاں ۔ پتہ نھيں کس کس قومی مقام کا نام سياست دانوں کے ناموں پر رکھا جارھا ھے اور وہ بھی ايسے سياست دان جنھوں نے ملک کے ليے کچھ بھی نھيں کيا بلکہ الٹا ملک کو شديد نقصان پھنچايا۔ليکن اے قائداعظم فکر نہ کيجيے آپ کی تصوير ھمارے دل و د ماغ ميں تھی ،ھے اور ھميشہ رھے گی- انشأاللہ۔

محمد رفيق مشوانی

Father's day ( June 19, 2011)

 

١۔ والد بچوں کے ليے رھنما ھوتا ھے

٢۔ والد اپنی اولاد کے ليے سايہ ھوتا ھے

٣۔ والد خود غرض نھيں ھوتا

٣۔ والد بچوں کے ليے مشعل راہ ھوتا ھے

٤۔ والد بچوں ميں فرق نھيں کرتا

٥۔ والد اپنے بچوں کو ايک مٹھی کی طرح متحد رکھتا ھے

٦۔ والد بچوں کےليے حقوق العباد کا چيمپئن ھوتا ھے

٧۔ والد اپنے اولاد کو مضبوت کردار کا مالک بناتاھے نہ کے ان ميں کمزوريوں کا بيچ بوتا ھے

٨۔ والد اولاد سے کوئ توقعات وابستہ نھيں رکھتا

٩۔ والد اپنی خوشی اپنی اولاد کی خوشی ميں ڈھونڈتا ھے

١٠۔ والد اپنی اولاد کے ليے دنيا کا سب سے بڑا جج ھوتا ھے

١١۔ والد ظالم نھيں ھوتا

١٢۔ آزادی کا سب سے پھلا سبق والد سے ملتا ھے

*************************************************************************

May 29, 2011

دس شھيدوں کوکم ازکم ميرا سلام

پ اين ايس مھران ميں دھشد گردوں کے خلاف لڑتے ھوے دس بھادروں نے جان کا نظرانہ پيش کيا۔ خبروں ميں سنا ھے کہ ايک افسر کو شائد نشان حيدر مل جاۓ۔ اللہ کرے ايسا ھی ھو۔ ليکن افسوس کی بات تو يہ ھے کہ يہ خبر ميں نے کھی نھی ديکھی کہ باقی کے نو ھيروز کو بھی يہ اعزاز مل سکتا ھے۔ مشرف نے پاکستان کا آئين توڑا تو اس کو فوج نے سلامی دے کر فارغ کيا۔ ان دس شھيدوں نے نہ صرف ملک کے ليے اپنی قيمتی جانيں ديں بلکہ ايسے وقت ميں جب ملک کے ساتھ کوی بھی کھڑا ھوا نظر نھيں آرھا، ان شير کے بچوں نے ملک کا نام روشن کيا۔ چلو کوی بات نھيں جب تک پاکستانی عوام کسی ضروری کام سے سوۓ ھوے ھيں، ميں ھی ان قوم کے بھادروں کو سلام پيش کرتا ھوں

محمد رفيق مشوانی

******************************************

(Mother's day - May 8, 2011): ماں کے نام

ماں سايہ ھے

ماں اعتماد ھے

ماں رونق ھے

ماں کاميابی ھے

ماں زندگی ھے

ماں سورج ھے

ماں روشنی ھے

ماں بھار ھے

ماں پيار ھے

ماں انصاف ھے

ماں علم ھے

ماں تنظيم ھے

ماں ڈھال ھے

ماں سکول و يونيورسٹی ھے

ماں اميد ھے

ماں اپنے بچوں کے ليے سائن بورڈ ھے

ماں آينہ ھے

يقين نہيں آتا تو اس سے پوچھو جس کی ماں نہيں ھے ۔

*****************************************************************************

 

August 1, 2010

غیرت، بے غیرت