
Gudwalian - one step ahead
Oct. 28, 2011
اجمير آپ شھيد پاکستان ھيں
اجمير کی خبر پڑھ کر کئيوں کے قلم نھيں رک سکے ھونگے۔آپ ميں سے جنھوں نے ان کے بارے ميں نھيں پڑھا ان کے ليے اس تحرير کے آخر ميں ايک لنک حاضرھے خبر پڑھنے کے بعد کوئ پاکستانی ايسا نھيں ھوگاجو ان پر فخرنہ کرے۔ خبر ميں يہ بتاياگيا کہ جب ان کا کسی علاقہ سے تبادلہ ھوتا تھا تو لوگ سڑکوں پر احتجاج کےليے نکل پڑتے تھے۔ميں نے فورْا ان کا مقابلہ ترقی يافتہ ممالک کی پوليس سے کيا جھاں پر پوليس لوگوں کی اسی طريقے سے حفاظت کرتی ھے فرق اتنا ھے کہ اجمير بغير کسی بڑی تنخواہ کے، دنيا کے خطرناک ترين حالات ميں اپنے ھموتنوں کی حفاظت کرتے تھے۔اجمير جيسے لوگ جب تک پيدا ھوتے رھيں گے يہ ملک اس وقت تک سلامت رھے گا۔ اصل سوگ تو آپ کے ليے منانا چاھيے۔آپ کے غم ميں پورا پاکستان ايک دن کے ليے بند ھو تو کوئ افسوس نھيں کيونکہ آپ شھيدِ پاکستان ھيں
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/10/111028_suicide_attack_sen.shtml
Oct. 11, 2011
سُپر شو
آج يوٹيوب پر ايک شو ديھکنے کا نادر موقع ملا۔ يہ سُپر شو چونکہ ميرے آبائ علاقے سری کوٹ ميں ھوا اسليے ميری توجہ کا مرکز بنا۔ اسں شو کا پھلا سين بھت ھی افسوسناک تھا کہ ايک عام آدمی جو عوام کی بدولت ايک زمہ دار منصب پر پھنچا ھو اور جھاں پر اس کا کام صرف اور صرف عوام کی خدمت اور پاکستان کی موجودہ صورت حال ميں بچت ھو وہ ھيلی کاپٹر ميں سڑک کا افتتاح کرنے کے ليے تشريف لارھاھے حالانکہ پاکستان کی اس وقت ايسی حالت ھے کہ پھلے تو ان کو آنے کی ضرورت ھی نھيں تھی{مجھے بھت اچھے طريقے سے ياد ھے کہ جب گدوالياں سے سری کوٹ کے نئے سڑک کاکام شروع ھورھا تھا تو ميں وھاں سے قدرتی گزر رھا تھآ کہ ٹھيکے دار نے مجھے آواز دی کہ آئيں ھمارے ساتھ دعا ميں شريک ھوجائيں ھم سڑک پر کام شروع کرنے جارھے ھيں} پھر بھی اگر يہ آھی رھے تھے تو ان کو سائيکل پر آنا چاھيے تھا ۔ اس کی وجہ يہ کہ ھيلی کاپٹر قرض کا، اس ميں ايندھن قرض کا، اس کا پائيلٹ قرض کی تنخواہ پر، اس کی ديکھ بال قرض پر، اس کے سارے دوسرے خرچے قرض پر وغيرہ وغيرہ ۔ بھائ پہلے اس ملک کو ھيلی کاپٹر کے قابل تو بنالو تو پھر ايسا کرو اتنا بڑا پہاڑ جتنا قرضہ تم لوگوں نے ملک پر چڑھا ديا ھے ۔ ميں يہ بات جلن کی وجہ سے نھيں کرھا مجھے ھيلی کاپٹر ميں بيٹھنے کا شوق نھيں ھے اور ويسے بھی ميں کاپٹر پر بيٹھ چکا ھوں ۔ خير ميرے کھنے سے کيا ھوتا ھے۔ بھرحال پھر سُپر شو شروع ھوا۔ پورے شو ميں عوام کا قيمتی وقت بھر پور طريکے سے ضايع کيا گيا۔مداريوں نے بھرپور فن کا مظاھرہ کيا۔ ايک طرف ميزبان شاہ، سڑکوں اور پلوں پر زور دے رھے تھے {مجھے ايسا لگا کہ ميں بھی ميزبان کے حلقے ميں ٹھيکيداری کا کاروبار شروع کروں ليکن اس کے ليے مجھے يا تو کسی سياسی شريف کی يا ايک ايسے سياسی ٹھيکيدار کی ضرورت پڑے گی جس کے پاس چار پانچ سو ماتحد لوگوں کے ووٹ ھوں } تو دوسری طرف سے کھل کر جھوٹ بولا گيا۔ تماشایْ کھلکر تالياں اور سيٹياں بجاتے رھے۔ يھی تو وہ خوبصورتی جس ميں ھماری اتنی ساری ترقی کاراز چھپا ھواھے۔ اگر يہ تماشائ ان کو نہ لے کر آئيں تو ايسے شوز اور ايسی ترقياں کھا ھماری مقدر بن سکتی ھيں۔ جو حکومت ميں ھے وہ چار سال گزر جانے کے بعد عوام کو بتا رھا ھے کہ ھم يہ کريں گے ھم وہ کريںگے۔ جو حکومت ميں نھيں ھے وہ جناب محترم وزيراعلی کو درخوست کرھا ھے کہ يہ کرو اور وہ کرو اور خود وہ اور اس کی پارٹی سالھہ سال حکومت ميں رھنے کے بعد بے روزگاری ختم کرنے، ترقی لانے، اور کئ اچھے اچھے مطالبات پيش کررھا ھے ۔ ايک اور خاص بات جو اس شو ميں مجھے نظر آئ۔ دوچارھند کو بولنے والے اس شو ميں موجود تھےجھاں پر پختون خواھ کا نارہ لگانے والے پشتو سپيکر بھی تھے اور ٩٨ فيصد سے زيادہ سننے والےپختون تھے ليکن تقريريں اردو ميں ھی ھوئيں۔ مہذب دنيا ميں اکثريت کی ايک قدر ھوتی ھے اور يھاں جو ھو رھا ھے اسی کو تو وی آئ پی کلچر کھتے ھيں۔ ايک اور مزے کی بات ايک صاحب مقررين کے پيجھے کھڑا ھے جو تماشائيوں کو بتا رھا ھے کہ کس وقت تالياں بجانی ھيں اور کس وقت نہيں۔ ميری نظر ميں يہی تو وی آئ پی کلچر کی جمھوريت ھے۔
ميرا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا نھيں ھے بلکہ جو ميں نے ديکھا محسوس کيا تو لکھ ديا
9/11
آپ کی تصوير ھمارے دل و د ماغ ميں ھے
گھر ميں مجھ سے کسی نے پوچھا کہ آج کيا دن ھے تو ميں نے کھا ٩/١١۔ دنيا کے عظيم ليڈر کا يوم وفات ۔ آجکا دن اس لحاذ سے بھت اھم ھے کہ يہ دن اس انسان کی يوم وفات ھے جنھوں نے ھميں اتنا بڑا ملک ديا۔ ليکن بے حسی اور احسان فراموشی کی انتھا ديکھيے کہ جنھوں نے يہ ملک بنايا ان کی تصوير ھی صدراوروزيرآعظم کے ميزسے کئ دفعہ غائيب ھوجاتی ھے اور کبھی اُس تصوير کے برابر ميں نظر آتی ھے جس کو ديکھ کر بندہ يہ سوچنے پر مجبور ھوجاتا ھے کہ سورج کا مقابلہ چراغ سے کھاں ۔ پتہ نھيں کس کس قومی مقام کا نام سياست دانوں کے ناموں پر رکھا جارھا ھے اور وہ بھی ايسے سياست دان جنھوں نے ملک کے ليے کچھ بھی نھيں کيا بلکہ الٹا ملک کو شديد نقصان پھنچايا۔ليکن اے قائداعظم فکر نہ کيجيے آپ کی تصوير ھمارے دل و د ماغ ميں تھی ،ھے اور ھميشہ رھے گی- انشأاللہ۔
محمد رفيق مشوانی
Father's day ( June 19, 2011)
١۔ والد بچوں کے ليے رھنما ھوتا ھے
٢۔ والد اپنی اولاد کے ليے سايہ ھوتا ھے
٣۔ والد خود غرض نھيں ھوتا
٣۔ والد بچوں کے ليے مشعل راہ ھوتا ھے
٤۔ والد بچوں ميں فرق نھيں کرتا
٥۔ والد اپنے بچوں کو ايک مٹھی کی طرح متحد رکھتا ھے
٦۔ والد بچوں کےليے حقوق العباد کا چيمپئن ھوتا ھے
٧۔ والد اپنے اولاد کو مضبوت کردار کا مالک بناتاھے نہ کے ان ميں کمزوريوں کا بيچ بوتا ھے
٨۔ والد اولاد سے کوئ توقعات وابستہ نھيں رکھتا
٩۔ والد اپنی خوشی اپنی اولاد کی خوشی ميں ڈھونڈتا ھے
١٠۔ والد اپنی اولاد کے ليے دنيا کا سب سے بڑا جج ھوتا ھے
١١۔ والد ظالم نھيں ھوتا
١٢۔ آزادی کا سب سے پھلا سبق والد سے ملتا ھے
*************************************************************************
May 29, 2011
دس شھيدوں کوکم ازکم ميرا سلام
پ اين ايس مھران ميں دھشد گردوں کے خلاف لڑتے ھوے دس بھادروں نے جان کا نظرانہ پيش کيا۔ خبروں ميں سنا ھے کہ ايک افسر کو شائد نشان حيدر مل جاۓ۔ اللہ کرے ايسا ھی ھو۔ ليکن افسوس کی بات تو يہ ھے کہ يہ خبر ميں نے کھی نھی ديکھی کہ باقی کے نو ھيروز کو بھی يہ اعزاز مل سکتا ھے۔ مشرف نے پاکستان کا آئين توڑا تو اس کو فوج نے سلامی دے کر فارغ کيا۔ ان دس شھيدوں نے نہ صرف ملک کے ليے اپنی قيمتی جانيں ديں بلکہ ايسے وقت ميں جب ملک کے ساتھ کوی بھی کھڑا ھوا نظر نھيں آرھا، ان شير کے بچوں نے ملک کا نام روشن کيا۔ چلو کوی بات نھيں جب تک پاکستانی عوام کسی ضروری کام سے سوۓ ھوے ھيں، ميں ھی ان قوم کے بھادروں کو سلام پيش کرتا ھوں
محمد رفيق مشوانی
******************************************
(Mother's day - May 8, 2011): ماں کے نام
ماں سايہ ھے
ماں اعتماد ھے
ماں رونق ھے
ماں کاميابی ھے
ماں زندگی ھے
ماں سورج ھے
ماں روشنی ھے
ماں بھار ھے
ماں پيار ھے
ماں انصاف ھے
ماں علم ھے
ماں تنظيم ھے
ماں ڈھال ھے
ماں سکول و يونيورسٹی ھے
ماں اميد ھے
ماں اپنے بچوں کے ليے سائن بورڈ ھے
ماں آينہ ھے
يقين نہيں آتا تو اس سے پوچھو جس کی ماں نہيں ھے ۔
*****************************************************************************
August 1, 2010
غیرت، بے غیرت
